ابنا: الیکشن 2013ء کرم ایجنسی کی تاریخ کے پرتشدد اور خونیں ترین انتخابات ثابت ہوئے ہیں، اکثر پولنگ اسٹیشنز پر ہاتھا پائی اور جھڑپوں کے دلخراش واقعات رونماء ہوئے۔ جن میں 25 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ دوسری جانب این اے37 پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس نشست پر سید قیصر حسین، ساجد حسین طوری اور سید اقبال میاں اہم امیدوار تھے۔ 11 مئی کی شام نتائج آنے سے قبل پارا چنار شہر کے گرد و نواح سے عوام نے پارا چنار شہر کا رخ کیا اور خدشہ تھا کہ بڑے پیمانے پر فسادات ہوں، حکومت نے کشیدہ حالات کے پیش نظر 11 مئی کی شام کو کرفیو نافذ کردیا۔
رات گئے تک سید قیصر حسین بھاری اکثریت سے جیت رہے تھے اور صبح 4 بجے تک انہیں 6 ہزار ووٹوں کی برتری حاصل تھی۔ تاہم صبح 7 بجے معلوم ہوا کہ ساجد حسین طوری کی فتح کا اعلان کیا گیا۔ جس کے مطابق وہ 30400 ووٹ حاصل کرکے فاتح قرار پائے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 11 مئی کی رات کو مختلف ٹی وی چینلز پر سید قیصر حسین کی فتح کا اعلان کیا گیا تھا، اور 12 مئی کی صبح جب اخبارات شائع ہوئے تو ان میں بھی سید قیصر حسین کی فتح درج تھی۔
ساجد حسین طوری کو فاتح قرار دینے پر مخالفین میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔سید قیصر حسین کے آبائی گاوں پیواڑ سمیت مختلف علاقوں سے ان کے حامی جلوس کی صورت میں پارا چنار شہر کی جانب آئے اور کرفیو کے باوجود احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔ جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک تھے۔ دھرنے میں خواتین نے بھی بچوں سمیت شرکت کی۔ دھرنے کے شرکاء نے مرکزی امام بارگاہ کا رخ کیا، جس پر مظاہرین پر پتھراو کیا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے۔ اس کے علاوہ ایک دوسرے احتجاجی جلوس پر فائرنگ بھی کی گئی۔ ذرائع کے مطابق پیش امام مرکزی جامع مسجد علامہ شیخ نواز عرفانی حالات کے پیش نظر ملیشیا کے قلعہ میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور پارا چنار کی صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہیں۔ دوسری جانب سید قیصر حسین نے ’’اسلام ٹائمز‘‘ کو بتایا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس حلقہ میں الیکشن دوبارہ کرانے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ جس کا باقاعدہ اعلان جلد کیا جائے گا۔
رپورٹ: جی اے شیراز
.....
/169